پاور شفٹنگ: ایران کی جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی بساط
پاور شفٹنگ: ایران کی جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی بساط
آج ہم ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں 1945 کے بعد کی سب سے بڑی پاور شفٹنگ (Power Shifting) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایران کے حالیہ تنازع نے دنیا کی نظریں اس حقیقت پر جما دی ہیں کہ عالمی طاقت کا مرکز ایک بار پھر تبدیل ہو رہا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے دوسری جنگِ عظیم نے اقتدار کی چابیاں برطانیہ سے چھین کر امریکہ کے حوالے کر دی تھیں۔
تاریخی تناظر: طاقت کا عروج و زوال
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پرانا نظام ٹوٹتا ہے، ایک نئی طاقت ابھرتی ہےق
سطنطنیہ کی فتح: عثمانیہ سلطنت کا عروج اور رومن سلطنت کا زوال۔م
عاہدہ ویسٹ فیلیا: یورپ کی تیس سالہ جنگ کا خاتمہ اور جدید ریاستوں کا قیام۔
ورلڈ وار ٹو: ہٹلر کے پولینڈ پر حملے سے شروع ہونے والی جنگ نے جاپان پر ایٹم بم کے ساتھ امریکی بالادستی (American Hegemony) کی بنیاد رکھ دی
بائی پولر سے یونی پولر اور اب ملٹی پولر دنیا
1945 سے 1991 تک دنیا بائی پولر (Bi-polar) تھی، جہاں امریکہ اور سویت یونین کے درمیان نظریاتی جنگ جاری تھی۔ 1991 میں سویت یونین کے بکھرنے کے بعد "امریکن یونی پولر مومنٹ" کا آغاز ہوا، جس میں عراق اور افغانستان جیسی جنگیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ امریکہ کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ تھا۔
لیکن اب وہ دور لد چکا ہے۔ آج دنیا ملٹی پولر (Multi-polar) بن رہی ہے، جہاں چین اور روس بڑے کھلاڑی بن کر ابھرے ہیں، جبکہ انڈیا اور یورپی یونین بھی اپنا وزن بڑھا رہے ہیں۔
نیو لبرل ڈیموکریسی کا زوال اور نیا ماڈل
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے 'لبرل ڈیموکریسی' کا ماڈل بیچا، لیکن آج امریکہ خود اپنی خارجہ پالیسی میں جمہوریت کی پروموشن سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ اب دنیا ایک نئے ماڈل کی تلاش میں ہے:
- ایک طرف: امریکہ، یورپ اور چند اتحادی عرب ممالک
- دوسری طرف: چین اور روس کا مضبوط بلاک۔
وینزویلا سے ایران تک: امریکہ کا غلط اندازہ
امریکہ نے پہلے وینزویلا میں چین اور روس کو آزمانے کی کوشش کی، مگر وہاں اسے خاموشی ملی۔ اس خاموشی کو امریکہ نے اپنی جیت سمجھا (بالکل ویسے ہی جیسے 1930 میں ہٹلر کو ملنے والی رعایت نے اسے مغرور کر دیا تھا)۔
اسی اعتماد میں امریکہ نے ایران پر وہی فارمولا آزمایا، لیکن یہاں حساب الٹ گیا۔ ایران کو روس اور چین نے ایک طویل جنگ کے لیے پہلے ہی تیار کر رکھا تھا، جبکہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک نے خود کو اس جنگ سے دور رکھ کر امریکہ کو تنہا کر دیا
اسرائیل کی سکیورٹی اور بدلتا ہوا توازن
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ملنے والے کھلے لائسنس نے طاقت کا فلسفہ ہی بدل دیا۔ ایرانی میزائلوں نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل اب "ناقابلِ تسخیر" نہیں رہا۔ دوسری جانب، روس کی انٹیلی جنس شیئرنگ نے ایران کو دفاعی طور پر مزید مضبوط کر دیا ہے۔
نتیجہ: چین نیا مرکز اور ایک نئی دنیا
تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ جیسے برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لی تھی، اب معاشی اور سیاسی مرکز چین کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ کا رخ: اب عرب ممالک چینی ماڈل (معیشت پر توجہ، جنگ سے دوری) کو ترجیح دے رہے ہیں۔
- یورپ کی مجبوری: یورپی ممالک اب بھی روسی توانائی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
خلاصہ:
ایران کی جنگ امریکہ کے لیے "دوسرا ویٹنام" ثابت ہو رہی ہے۔ پرانا نظام دفن ہو چکا ہے اور نقشوں کے ساتھ ساتھ اب دنیا کا پورا نظام بدلنے والا ہے۔ یہ پاور شفٹنگ کا آخری دھکا ہے جو دنیا کو ایک نئے عالمی آرڈر کی طرف لے جا رہا ہے۔
0 comments:
Post a Comment